• Home »
  • نیوز »
  • اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز نے کہا ہے۔ کہ چترال کے نوجوانوں میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ اگر ان نوجوانوں کی صحیح معنوں میں سرپرستی کی گئی۔

اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز نے کہا ہے۔ کہ چترال کے نوجوانوں میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ اگر ان نوجوانوں کی صحیح معنوں میں سرپرستی کی گئی۔

چترال (نمائندہ شندور ٹائمز) اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز نے کہا ہے۔ کہ چترال کے نوجوانوں میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ اگر ان نوجوانوں کی صحیح معنوں میں سرپرستی کی گئی۔ تو یہ بیرون ملک تک پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پیر کے روز انڈر 23گیمز خیبر پختونخوا کے افتتاح کے موقع پر گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں پرنسپل کمال الدین، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر چترال عبدالرحمت، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آر ڈی ڈی انجینئر فہیم جلال موجود تھے۔ انہوں نے کہا،کہ ہمیں شفافیت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اور کھلاڑیوں کا چناؤ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ تاکہ قابل کھلاڑیوں کا حق ضائع نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا۔ کہ کھلاڑیوں میں اگر دلچسپی برقرار رہی۔ تو کھیل بھی ہوتے

رہیں گے۔ اور چترال میں سپورٹ گراؤنڈ بھی تعمیر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال ایسی جگہ ہے۔ جہاں پولو سمیت تمام کھیلوں کے کھلاڑی موجود ہیں۔ ڈی سی چترال تعاون کرنے والے آفیسر ہیں۔ اس لئے کھلاڑیوں اور متعلقہ منتظمین کو یہ توقع رکھنی چایئے۔ کہ اس سلسلے میں اُن کا بھر پور تعاون ساتھ رہے گا۔ انہوں نے مستوج سے آنے والے نوجوان کھلاڑیوں کو داد دی اور کہا۔ کہ آیندہ دور دراز کے کھلاڑیوں کیلئے انتظامات کئے جائیں گے۔ قابل ازین چیرمین چترال سپورٹس ایسوی ایشن حسین احمد نے کہا۔ کہ انڈر 23گیمز کے انعقاد کا مقصد اُن کھلاڑیوں کو مقع فراہم کرنا ہے۔ جن ٹیلنٹ موجود ہے۔ لیکن اُن کو مواقع نہیں مل رہے۔ اس ٹرائل سے باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے جانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال کے تین کھلاڑی قومی ٹیموں میں شامل ہیں۔ جو کہ علاقے کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ واضح رہے۔ انڈر 23گیمز میں والی بال، نیٹ بال، بیڈ منٹن، اتھلیٹکس، باسکٹ بال، ہاکی، کرکٹ، بیس بال، سکواش، جوڈو، رسہ کشی وغیرہ شامل ہیں۔