• Home »
  • Uncategorized »
  • امراضِ قلب کی 6 حیران کن علامتیں جنہیں نظرانداز نہ کریں

امراضِ قلب کی 6 حیران کن علامتیں جنہیں نظرانداز نہ کریں


امراض قلب کی جہاں کئی وجوہات ہوسکتی ہیں وہاں یہ چھ حیران کن علامتیں جن پر بروقت قابو پاکر ہارٹ اٹیک سے بچا جاسکتا ہے خراٹے لینا ،مسوڑھوں سے خون رسنا اور صنفی مسائل کو عام طور پر طبی مسائل

نہیں دی جاتی ہے اس لیے جو لوگ ان میں مبتلا ہوتے ہیں عموماً وہ یہ مسائل نظرانداز کردیتے ہیں جب دل اور شریانیں ناکام ہونے لگتی ہیں تو اسکی علامتیں جسم کے کچھ اور حصوں میں رونما ہوسکتی ہیں جنکا دل کی بیماری سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ان علامتوں میں چھ سب سے عام اور سب سے زیادہ حیران کرنے والی علامتیں بھی ہیں جن سے لوگوں کو آگاہ ہونا چاہیے ٹیکساس اے اینڈ ایم ہیلتھ سائنس سینٹر کے کارڈولوجسٹ ڈاکٹر جون ارون کہتے ہیں ان علامتوں پر نظر رکھنے سے بیماری کا ابتدا ہی میں سراغ لگاناممکن ہوگا اور یوں جان بچانے میں مدد ملےگی۔

1. سوجے مسوڑھوں سے خون رسنا ۔


بہت کم لوگوں نے اس بارے میں سوچا ہوگا کہ مسوڑھوں کے مسائل کا دل کی بیماری سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے تاہم غیر صحت مند مسوڑھے periodontis کی علامت ہوتے ہیں یہ مسوڑھوں کا سنگین نوعیت کا انفیکشن ہے جس سے جبڑے کی ہڈی برباد ہوسکتی ہے ” پیروڈونٹس ” درحقیقت پورے جسم میں سوزش کو بڑھا دیتا ہے اور جب مسوڑھے متورم ہوجاتے ہیں Atherosclerotic دل کی بیماری اور ہارٹ اٹیک میں مبتلا ہونے کاخطرہ بھی زیادہ ہوجاتا ہے اسکے لیے باقاعدگی سے منہ کی صحت و صفائی کیساتھ ڈینٹسٹ سے ملاقات کرنی چاہیے جنکے مسوڑھوں سے خون رستا ہو انہیں دانتوں کی برشنگ اور فلاسنگ پر بھی زیادہ

2. سینے کی جلن یا بدہضمی ۔ضرور پڑھیں

سینے میں جلن یا بدہضمی کی شکایت بہت عام ہوتی ہے اور شازونادر ہی اسے سنگین سمجھا جاتا ہے لیکن بعض صورتوں میں پیٹ کے اوپری حصے میں بظاہر بے ضرر قسم ک جلن یادرد کااحساس دل میں درد یا دل کے دورے کی علامت ہوسکتا ہے جب سینے میں جلن ،بدہضمی یا ہچکی کے ساتھ متلی پسینہ آنا ،سانس لینے میں دشواری یا سر ہلکا محسوس ہو تو ایسے لوگوں کو فوری طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ڈاکٹرز کہتے ہیں اسپتال کے ایمرجنسی میں روم میں ایسے مناظر دیکھنے کوملتے ہیں کہ لوگ کئی گھنٹے تک تزابیت یا سینے میں جلن دور کرنے والی گولیاں چوسنے یا چبانے کے بعد اسوقت اسپتال پہنچتے ہیں جب انہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ درد تو کسی اور چیز کا ہے

3. کاندھے یا گردن میں کھنچاوء۔ضرور پڑھیں:

ہارٹ اٹیک کے دوران بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے انکے سینے پر بہت بوجھ بڑھ گیا ہے اور بازووءں میں سے کسی چیز جے نچوڑے جانے جیسی سنسنی محسوس کرتے ہیں تاہم بہت سے لوگوں میں یہ علامات نہیں بھی ظاہر ہوتیں لیکن کچھ لوگوں کےلیے بے آرامی دل میں درد یا ہارٹ اٹیک کی واحد علامت ہوتی ہے

4. خراٹے لینایا ” سلیپ اپنیا “

خراٹے کو سلیپ اپنیا Sleep Apnea کی ایک عام علامت قرار دیا جاتا ہے جس میں مبتلا شخص رات بھر سونے کے باوجود خود کو بے خوابی کا شکار سمجھتا ہے سلیپ اپنی  دراصل وقت کاوہ دورانیہ ہوتا ہے جب نیند کی حالت میں مریض سانس لینا روک دیتے ہیں اس خرابی سے کئی عضویاتی تبدیلیاں سامنے آتی ہیں جن سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے خراٹے کی صورت میں دل کی دھڑکن بے قاعدہ اور تیز ہوجاتی ہے اور اسکے نتیجے میں خون کا بہاوء کم ہوجاتا ہے لہذا سلیپ اپنیا کی تشخیص اور علاج سے دل کے مسائل کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے

5. سوجی ہوئی ٹانگ اور پائوں۔ضرور پڑھیں: گے

پاوءں اور ٹانگیں کئی وجوہات کی بنا پرسوج سکتی ہیں تاہم سوجی ہوئی ٹانگیں اور پائوں Congestive Heart Failure کی بھی علامت ہوسکتی ہیں یہ بات خاص طور پر ان لوگوں کے حق میں درست ہوسکتی ہے جنہیں تھوڑی سی محنت مشقت کرنے سے خلافِ معمول سانس پھولنے کی شکایت ہویا جب وہ سونے کی کوشش کریں تو سانس لینے میں دشواری ہو اگر پاوءں یا ٹانگوں میں کسی بھی وجہ سے سوجن مستقل رہے تو وہ ڈاکٹر کو دکھائیں تاکہ ہارٹ فیلئیر کے مسلے کا تعین کیا جاسکے

6. صنفی خرابی ۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ صنفی فعلیت کی خرابی کا تعلق تولیدی اعضا یادماغ کے مسائل سے ہوتا ہے تاہم بالخصوص مرد حضرات میں یہ خرابی شریانی بیماری کی ایک علامت ہوتی ہے شریانوں میں پلاک Plaque یا چربیلے مادے کے جمع ہونے سے مردانہ صنفی خصوصیات پر بھی اثر پڑتا ہے لیکن خواتین میں صنفی جوش میں کمی سے عموماً یہ اشارہ ملتا ہے کہ سن یاس Menopause کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے اسکے باوجود سن یاس کے مرحلے سے گزرنے والی خواتین میں دل کی بیماری کے خطرناک عوامل بہت تیزی سے بڑھ جاتے ہیں تاہم خود سن یاس قلبی شریانی بیماری کا سبب نہیں بنتا ” مینوپاز ” اگرچہ خود قلبی شریانی امراض کی وجہ نہیں ہوتا ہے ائے کن دل کی صحت کو خطرے میں ڈالنے والے عوامل مثلاً بلڈپریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں تبدیلی سن یاس کے آس پاس شروع ہوجاتی ہے مزید براں جب زندگی کا یہ مرحلہ شروع ہوتا ہے تو بہت سی خواتین غیر متحرک طرز زندگی کی زیادہ عادی ہوجاتی ہیں ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔