• Home »
  • Uncategorized »
  • اپر چترال میں بجلی کے 21ہزار صارفین نے گولین گول بجلی گھر سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی شروع کرنے اور لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے حکومت کو 3اپریل کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہاہے کہ مطالبہ منظور نہ ہونے پر وہ گولین گول لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوں گے

اپر چترال میں بجلی کے 21ہزار صارفین نے گولین گول بجلی گھر سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی شروع کرنے اور لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے حکومت کو 3اپریل کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہاہے کہ مطالبہ منظور نہ ہونے پر وہ گولین گول لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوں گے

چترال(نمائندہ شندور ٹائمز)اپر چترال میں بجلی کے 21ہزار صارفین نے گولین گول بجلی گھر سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی شروع کرنے اور لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے حکومت کو 3اپریل کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہاہے کہ مطالبہ منظور نہ ہونے پر وہ گولین گول لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ تحریک تحفظ حقوق عوام اپر چترال کے صدر مختار احمد لال،سرپرست اعلیٰ میر ایوب،رحمت سلام،محمد پرویز لال،عیدی علی، سلطان نگاہ، شہاب الدین، نادر جنگ لال، سردار احمد، وزیر شاہ، عیدعلی، حیدر احمد، علی احمد جان، معرا ج الدین، مرسلین خان اور حسین شاہ نے چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیسک اور پیڈو نے و گولین بجلی گھر میں پانی کی کمی اور 7میگاواٹ ٹرانسفارمر کی تنصیب کا بہانہ بنا کر اپر چترال کے لوگوں کو دانستہ طور پر ایک سازش کے تحت اندھیروں میں دھکیل دیا ہے جبکہ گذشتہ سال بارشین کم ہونے اور ہیوی ٹرانسفارمر کی تنصیب کے بغیر گولین بجلی گھر کی بجلی بلاناغہ اپر چترال کو دی جاتی رہی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ پانی کی کمی یا ٹرانسفارمر کا نہیں بلکہ پیسکو اور پیڈو کے باہمی تنازعے کا ہے جس میں اپر چترال کے عوام کو قربانی کا بکرا بناکر اندھیروں میں جھونک دیا گیاہے اور یہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کرکہاکہ پنے مطالبے کے حق میں 3اپریل کو اپر چترال کے عوام کا سمندر بجلی کی مسلسل فراہمی کا مطالبہ لے کر بونی سے گولین بجلی گھر کی طرف لانگ مارچ کرے گا جسے کوئی بھی مائی کالعل نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ حقوق چترال کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ اپر چترال کو مستقل بنیادوں پر بجلی فراہم کیا جائے اور اس مطالبے کے سلسلے میں اس غیر سیاسی تحریک کے پلیٹ فارم سے بار بار پیسکو، پیڈو اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی گئی کہ مسئلہ حل کرکے لوگوں کو اندھیروں سے نجات دلائی جائے لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کسی نے بھی اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا اور ہمیں انتہائی قدم لینے پر مجبور کردیا انہوں نے کہا کہ35ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا 108میگاواٹ کا بجلی گھر کا صرف 8میگاواٹ بجلی پیدا کرنا بھی باعث تعجب ہی نہیں بلکہ قابل مواخذہ ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگرمتعلقہ وزیر، پیڈو یا ضلعی انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار افسر عوام کو بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائے تو ڈیڈ لائن کی تاخیر میں توسیع کی جاسکتی ہے۔