• Home »
  • Uncategorized »
  • اہل سنت والجماعت چترال کے زیر اہتمام منعقدہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کانفرنس میں حکومت سے پرزور مطالبہ

اہل سنت والجماعت چترال کے زیر اہتمام منعقدہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کانفرنس میں حکومت سے پرزور مطالبہ

چترال (نمائندہ شندور ٹائمز) اہل سنت والجماعت چترال کے زیر اہتمام منعقدہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کانفرنس میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیاکہ نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کے قریب ترین ساتھی ابوبکر صدیق کے یوم پیدائش کو سرکاری تعطیل قراردینے اور ملک کے معروف شاہراہوں اور مقامات کو ان کے نام پر رکھنے کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کے شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں اور حال ہی میں ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل میں خلیفہ اول کے بارے میں نازیبا بات کرنے والی انکرپرسن کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ پیر کے روز چترال پریس کلب کے اڈیٹوریم میں تنظیم اہل سنت والجماعت کے صدر اور معروف عالم دین حافظ خوش ولی خان کے زیر صدارت منعقد ہ کانفرنس میں مقررین نے حضرت ابوبکر صدیق کی اسلام کے بارے میں خدمات بیان کرتے ہوئے کہاکہ وہ انحضرت کے قریب ترین دوست تھے جس نے اسلام کی اشاعت کی خاطر اپنا گھر بار مکمل طور پر پیغمبراسلام کے قدموں

میں ڈھیر کردیا اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ انبیاء کے بعد افضل البشر ہیں اور رہتی دنیا تک اسلام کی تاریخ میں زندہ وجاوید رہنے والے صحابی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خود حضور ﷺ نے ابوبکر صدیق نے تین سو احادیث میں ان کی عظمت بیان کی ہے جبکہ قرآن مجید میں بھی ان کی تعریف ہوئی ہے اور یہ وہ ہستی ہیں جوکہ امت محمدی کاسب سے پہلا فرد ہیں جس نے سب سے پہلا اسلام قبول کیااور سخت ترین مشکلات کو اس راہ میں خوشی سے قبول کیا اور جس پامردی کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال کہیں نہیں مل سکتی۔ اس موقع پر اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ قومی اسمبلی میں ایم این اے طارق

پراچہ نے صحابہ کرام کے شان میں گستاخی کے خلاف بل پیش کیا لیکن اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے مولانا عبدالاکبر چترالی اب تک خاموش ہیں اور اس بل کی حمایت میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ مقررین نے چترال میں منشیات کے خلاف چترال پولیس کی کاوشوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس میں مزید تیزی لانے کا مطالبہ کیا۔ مقررین میں مولانا اسرارالدین الہلال المعروف بلبل چترال، اہل سنت کے سرپرست اعلیٰ مولانا سراج الدین، جنرل سیکرٹری مولانا جاوید الرحمن، پاکستان راہ حق پارٹی کے افتخار حسین صدیقی اور حافظ الاسد شامل تھے۔ مفتی حسن الدین نے نعت شریف پیش کی جبکہ مولانا بزرگ ولی شاہ نے اجتماعی دعا کرائی۔