• Home »
  • نیوز »
  • ایون کے معروف شخصیت شہزادہ مقصود الملک نے کہا ہے۔ کہ منصوبوں پر عملدر رآمد کے حکومتی طویل اور ناقص طریقہ کار کے باعث وزیر اعظم اپنے دورۂ چترال کے دوران ایون میں اپنے قیام کے موقع پر اُن منصوبوں کا افتتاح نہ کر سکے

ایون کے معروف شخصیت شہزادہ مقصود الملک نے کہا ہے۔ کہ منصوبوں پر عملدر رآمد کے حکومتی طویل اور ناقص طریقہ کار کے باعث وزیر اعظم اپنے دورۂ چترال کے دوران ایون میں اپنے قیام کے موقع پر اُن منصوبوں کا افتتاح نہ کر سکے

چترال (محکم الدین) ایون کے معروف شخصیت شہزادہ مقصود الملک نے کہا ہے۔ کہ منصوبوں پر عملدر رآمد کے حکومتی طویل اور ناقص طریقہ کار کے باعث وزیر اعظم اپنے دورۂ چترال کے دوران ایون میں اپنے قیام کے موقع پر اُن منصوبوں کا افتتاح نہ کر سکے۔ جن کا ایون کے لوگ شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ اُن میں ایون کالاش ویلی روڈ، گولین بجلی کی ایون اور ملحقہ وادیوں کو فراہمی اور گیس پلانٹس کی تنصیب خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ تاہم ایون اور ملحقہ وادیوں کے تمام لوگوں کو یہ توقع رکھنی چاہیے۔ کہ وزیر اعظم کو اس حوالے سے تمام تر تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اور وزیر اعظم نے انتہائی دلچسپی سے یہ مسائل سن کر اُن پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اور بہت کم عرصے کے دوران ان منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے

کہا۔ کہ چترال کے تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے نمایندگان چترال کی تعمیرو ترقی میں اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کر تے ہیں۔ لیکن سسٹم کی خرابی کے باعث وہ عوام کی مفاد کے منصوبے بروقت تعمیر کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال یہ ہے۔ کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ایون میں گرلز کالج کی تعمیر کی منظوری دی۔ لیکن ساڑھے چار سال گزرنے کے باوجود اُس کاسنگ بنیاد نہیں رکھا جا سکا۔ اسی طرح کالاش ویلی روڈ کا اعلان کافی عرصہ پہلے کیا جا چکا تھا۔جس میں ایون ویلی کے بڑے حصے کو نظر انداز کیا گیا تھا۔لہذا اُس سروے پر نظر ثانی کی کوشش کی گئی، ایون کے تمام دیہات موڑدہ، تھوڑیاندہ، درخناندہ، کورو اور صحن کو سروے میں شامل کیا گیا۔اس سروے کو کئے ہوئے چھ مہینے کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب یہ منصوبہ محکمہ ماحولیات کی رخنہ انگیزی کی بھینٹ چڑھ کر تعطل کا شکار ہو چکاہے۔ جونہی اس حوالے سے کلیرنس رپورٹ دی جائے گی۔ منصوبے کی تعمیر شروع کی جائے گی۔ شہزادہ مقصود نے کہا،

گیس پلانٹس کا مسئلہ بھی سسٹم کی وجہ سے اٹکا ہوا ہے۔ تمام سامان در آمد ہو چکے ہیں، زمین کی خریداری کیلئے سائٹ کا انتخاب کیا گیا ہے لیکن پٹواریوں کی کاغذی کاروائی مکمل نہ ہونے کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔ اس لئے وزیر اعظم سے گیس پلانٹس سے متعلق کاروارئی تیز کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ ایون میں پینے کے صاف پانی کے مستقل حل کیلئے کنواں بنا کر اوورہیڈ ٹینکی کے ذریعے فراہمی کی تجویز دی گئی ہے ۔ جس کیلئے مختلف کلسٹر بنائے جائیں گے۔ ایون اور ملحقہ علاقوں کو گولین گول بجلی کی فراہمی کیلئے سروے ہو چکا ہے، اپر اور لوئر چترال کے بعد ایون کو بجلی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا۔ کہ سیلاب کی وجہ سے بننے والے ڈیم کے بارے میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی، اور قلعہ ایون سے پورے ڈیم کا نظارہ کروایا گیا۔ اور بتایا گیا کہ سیلاب سے وجود میں آنے والے ڈیم نے کس طرح تباہی مچائی ہے، اور مستقبل میں نقصانات کے کیا خدشات ہیں۔ وزیر اعظم نے تمام مسائل سننے کے بعد مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔