• Home »
  • نیوز »
  • جے یو آئی (ف) کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان کی مبینہ جعلسازی سے متاثر شخص چترال کی رہائشی گورنمنٹ کنٹریکٹر ناصر احمد خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ان کے مظالم کا سوموٹو نوٹس لینے اور چیف الیکشن کمشنر سے ان کے کاغذات نامزدگی کو سینٹ کے الیکشن کے لئے مسترد کرنے کی اپیل کی ہے

جے یو آئی (ف) کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان کی مبینہ جعلسازی سے متاثر شخص چترال کی رہائشی گورنمنٹ کنٹریکٹر ناصر احمد خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ان کے مظالم کا سوموٹو نوٹس لینے اور چیف الیکشن کمشنر سے ان کے کاغذات نامزدگی کو سینٹ کے الیکشن کے لئے مسترد کرنے کی اپیل کی ہے

چترال (نمائندہ شندور ٹائمز) جے یو آئی (ف) کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان کی مبینہ جعلسازی سے متاثر شخص چترال کی رہائشی گورنمنٹ کنٹریکٹر ناصر احمد خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ان کے مظالم کا سوموٹو نوٹس لینے اور چیف الیکشن کمشنر سے ان کے کاغذات نامزدگی کو سینٹ کے الیکشن کے لئے مسترد کرنے کی اپیل کی ہے جوکہ کسی بھی طور پر صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر کوئی بھی سرکاری عہدہ رکھنے کا اہل نہیں۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مولانا گل نصیب خان نے

سینٹ میں اپنے سابق ممبری کے دوران اپنے فنڈز اپنے ہی بھائی زرنصیب خان کے ذریعے پاک پی ڈبلیو ڈی بٹ خیلہ میں افسران کے ساتھ ساز باز کرکے میرے تعمیراتی فرم پر میرے ہی جعلی دستخطوں سے ٹینڈر کرائے اور ترقیاتی کاموں میں زبردست غبن کیا جس پر انکوائری جاری ہے اور نام میرا استعمال ہورہاہے۔ انہوں نے نیب سے مطالبہ کیا کہ پاک پی ڈبلیوڈی کے جملہ کاغذات میں ان دستخطوں کا فرانزک لیبارٹری کے ذریعے ٹیسٹ کرائی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ گل نصیب خان ان کے بھائی زرنصیب خان اور ان کا شریک جرم اسرارالدین ٹھیکہ دار نے جو اثاثے بنائے ہیں، ان کا بھی نیب تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ہر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے میں مصروف ہیں جوکہ قانون کی دھجیاں بکھیرنے اور جعل سازی پر دوبارہ ایوان بالا میں بیٹھنے کی بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ جعلسازی میں ملوث شخص کس طرح صادق اور امین ہوسکتا ہے جسے ایک دینی جماعت کی طرف سے سینٹ کی ٹکٹ دی گئی ہے۔