• Home »
  • Uncategorized »
  • دھڑکنوں کی زبان محمد جاوید حیات تیرے من کی گنگا اور میرے من کی جمنا

دھڑکنوں کی زبان محمد جاوید حیات تیرے من کی گنگا اور میرے من کی جمنا

دھڑکنوں کی زبان
محمد جاوید حیات تیرے من کی گنگا اور میرے من کی جمنا
ملک خداد میں سیاست نابالغ لگتی ہے اس لئے کہ سیاسی لوگوں کو اپنی کمزوریاں کبھی یاد نہیں پڑتیں۔جس کے پاس کرسی ہو اس کو تو کم از کم اپنی کوتاہیاں نظر نہیں آتیں اس وجہ سے ہمارے ہاں ترقی کی رفتار مسلسل نہیں ہوتی۔۔کوئی بھی تعمیری کا م،منصوبہ،وژن سیاست کی نذر ہوتا ہے۔کوئی یہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے نے یہ کام اچھا کیا۔ان کے یوں اقدام اچھے ہیں۔حالانکہ ایسا کرنا چاہیے ہماری بہتر سالہ تاریخ میں بہت سے ایسے مسائل اور بہت سی ایسی آزمائشیں درپیش ہوئیں کہ ان کا ہم نے ایک حد تک مقابلہ کیا لیکن کامیابیوں کو اپنے سر لینے کی راگ ہم سے نہ چھوٹی۔ہم یہ کامیابیاں ار دوسروں کی ہیں تو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔وہ بڑی بڑی آزمائیشیں اب بھی متنازعہ ہیں۔۔اب بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جہاد آزادی کشمیر میں ہم سے کوتاہیاں ہوئیں۔اب بھی ہم کہتے ہیں کہ مسند اقتدار ہمارے برائے نام جمہوریت پسندوں کو ملی اور ایوب خان تک کا جو دور تھا شطرنج کا کھیل تھا۔ یہاں تک کہتے ہیں کہ ہم نے ایک فالج زادہ آدمی کو ویسے مسند اقتدار پر بیٹھایا۔ابھی تک لڑائی ہے کہ ۵۶۹۱ء کی جنگ فوج نے جیتی یا قوم نے جیتی۔۔ابھی تک بنگال کی علیحدگی کلیئر نہیں ہے۔مار شل لاء کیوں لگے تازہ تازہ سوال ہے۔۔کودیتا ہوا۔۔کیوں ہوا؟ہم کارگل گئے کیوں؟۔ واپس کیوں آئے؟ہم نے موٹر وے کیوں بنایا؟۔ ہم نے ڈیم کیوں نہیں بنایا؟۔بھٹو کو پھانسی کیوں دی گئی؟۔بے نظیر کیوں شہید کی گئیں؟۔ملک میں دہشت گردی کیوں ہوئی؟۔ قومی حزانے میں پیسے کہاں گئے؟۔۔ان بڑے سوالوں کا کسی کے پاس جواب نہیں اس لئے کہ ہمارے من کی گنگا ایک ہے ہم اپنی کوتاہی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ہمارے کوئی مشترکہ مفادات نہیں۔ہم نے ذاتی مقصد کو سب کچھ سمجھ لیاہے۔اس لئے رب نے استحکام کی دولت کو ہم سے چھین لیا ہے۔ہماری دوڑ دھوپ بچوں جیسی ہے۔کہ وہ صبح گھروندھے بناتے ہیں شام کو گرا کے نکلتے ہیں۔ہم ایک کام شروع کرتے ہیں پھردوسرا آتا ہے تو وہ کام وہیں پہ ادھورا ہے اس کو مکمل نہیں کرتا۔اب شور اٹھتا ہے۔پچھلوں کو گالیاں دی جاتی ہیں کوئی اپنے من کی گنگا میں اشنان کر رہا ہے کوئی اپنے من کی جمنا پر۔۔اگر ہمارے حکمران مخلص ہوتے اورہم اخلاص اوراچھائیوں میں ان کا ساتھ دیتے تو آج ہم واقعی میں ٹائیگر ہو چکے ہوتے۔۔ہم دوسروں کی مثال دیتے ہیں۔ملائشیاء کے صدر ہمارے منصوبہ جات لے کے گئے ان پر ایمانداری سے عمل کیا۔قوم نے اس کا ساتھ دیا۔۔انجینئر نے دوسوسال کے لئے سوچ کر روڈ بنایا۔عدالت نے انصاف کا دامن پکڑ لیا استاد نے صداقت کا سبق پڑھایا۔جو جہان ہے وہاں پر اپنے فرض کو فرض سمجھا تو وہ اشیاء کے ٹائیگر بن گئے۔مگر ہم نے دیانت کو دیس نکالا دیا۔فرض اور محنت کو ثانوی سمجھا۔ذاتی مفاد کو سب کچھ سمجھا۔اس وجہ سے اب حالت یہ ہے کہ ہم ”دیانت“ اور ”بد دیانت“ ”عنوان“ اور ”بدعنوان“ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہم نے دیانت کے اس میزان میں کبھی اپنے آپ کو تولا نہیں۔ہمارے کسی حکمران نے یہ نہیں سوچا کہ اقتدار امانت بھی ہے عارضی بھی اور آزمائش بھی ہے۔کچھ اچھا کرکے جانا ہے۔جس حکمران نے جو نعرہ لگایا اس کا قوم نے مذاق اڑایا۔ ”روٹی َ،کپڑا، مکان“ پر قہقہ لگایا گیا۔”ملک سنوارو قرض اُتارو“ کو صدا بہ صحرا کردیا گیا۔”سب سے پہلے پاکستان“بھی کوئی اثر نہ دیکھایا۔اب”مدینے کی ریاست“کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔حالانکہ یہ اُمت مسلمہ کے لئے ایک مثال ہے یہیں پہ ہماری بنیاد ہے۔۔یہی ہماری اصل ہے۔۔سیاسی مخالفین میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو اس ر یاست کا فرد نہیں سمجھتاحالانکہ بڑے فخر سے سمجھنا چاہیے۔قوم میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔اگر قوم کا ہرفردذمہ دار ہو تو ریاست بھی بنتی ہے اور حکمران بھی مجبور ہوتے ہیں۔۔دکان میں بیٹھا ہوا ایک فرد کہہ دے کہ وہ اس ریاست کا فرد ہے غلط کام نہیں کرے گا کوئی ڈرائیور،کوئی ترکھان،کوئی مستری،کوئی موچی،بڑھائی،نان بائی عرضیکہ بہت بڑا آفیسر اپنے آپ کو اس ریاست کا خادم کہے اور کوتاہی کا سوچا تک نہ تواس طرح ہر شعبہ ہائے زندگی میں اصلاح آجائے گاتو پھرریاست مدینہ دور نہیں ہے۔ہمارے پاس اسلا م جیسی شناخت ہے اس شناخت کو بھو ل جا تے ہیں۔پھر اپنے من کی گنگا ہے۔۔ایک بے سرا راگ ہے جس کو جتنا وقت ملے الاپتے رہتے ہیں۔ہم ایک دوسرے سے محبت نہیں کر سکتے۔ہم اپنے آپ کو اس ایک ملک کے باشندے نہیں سمجھتے۔ہم نہیں سوچتے کہ یہ ملک ہماری شناخت ہے۔۔اس کے لئے دیانتداری سے سوچنے والا،اس کا محافظ،اس کا حکمران ہمارا ہے۔ان کی عزت اس مٹی کی عزت ہے ان کا احترام اس مٹی کا احترام ہے۔ہم جب گالی دینے بیٹھتے ہیں تو نہیں سوچتے کہ کس کو گالی دے رہے ہیں۔یہ طنز،یہ نشتر،یہ نفرت اور بغض نے ہمارا بیڑھا غرق کر دیا ہے۔
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہوافغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو
سوال ہے کہ ہم جس پارٹی سے بھی تعلق رکھیں۔ہم جو بھی ہوں۔۔ اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کیا ہم ”پاکستانی“ ہیں؟۔۔ اگر ہیں تو اپنی جمنا اور گنگا کیوں ہیں؟۔سب مل کے اس ملک کی تعمیر کا کیوں نہیں سوچتے۔۔اس دھرتی پر فخر کیوں نہیں کرتے۔