• Home »
  • نیوز »
  • رکن صوبائی اسمبلی سید سردار حسین کا سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار

رکن صوبائی اسمبلی سید سردار حسین کا سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار

چترال(نمائندہ شندور ٹائمز) سب ڈویژن مستوج کے ہیڈ کوارٹر بونی میں لائن ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی سید سردار حسین کر رہے تھے۔یہ اہم اجلاس ایم پی اے کے ہدایت پر بلائی گئی تھی جس میں تمام سرکاری محکموں کے سربراہان اور غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید سردار حسین نے اس بات پر نہایت برہمی کا اظہار کیا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی، سینکڑوں گھر تباہ ہوئے لوگوں کے رابطہ سڑکیں، پل وغیرہ تباہ ہوئے ہیں مگر بعض محکموں کے افسران صرف اپنے کمیشن اور بالائی آمدنی کے چکر میں بحال کاری کی کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں یا اس میں دلچسپی نہیں لیتی۔اجلاس کے شرکاء کو اسسٹنٹ کمشنر مستوج منہاس الدین نے بریفنگ دیتے ہوئے نقصانات کا رپورٹ پیش کیا۔ جس کے بعد تمام محکموں کے سربراہان اور نمائندوں نے اپنے اپنے محکمے کی کارکردگی، ضروریات، نقصانات اور تجاویز پیش کئے۔
ایم پی اے سردار حسین نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ناقص کارکردگی پر نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ای کی چترال میں کروڑوں روپے کی لاگت سے دس بارہ منصوبوں پر کام شرو ع ہوا تھا مگر بدقسمتی سے ان میں ایک بھی مکمل طورپر کامیاب نہیں ہوا جبکہ ان لوگوں نے اپنے کمیشن کے خاطر کاغذی کاروائی کرتے ہوئے فنڈ بھی ہضم کیا۔لوگ ایک قطرہ پانی کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ محکمے کے افسروں کو عوام کی تکلیف کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ اسی طرح سی اینڈڈبلیو کے حوالے سے بھی کافی شکایات سامنے آئی کہ انہوں نے ابھی تک چترال کے کئی علاقوں میں رابطے سڑک بحال نہیں کئے ہیں۔ ایریگیشن کے ایگزیکٹیو انجینئر اختر رشید نے تجویز پیش کی کہ صوبائی سطح پر کوئی ایسی قانون سازی کی جائے کہ تمام ترقیاتی کاموں میں عوام کی شرکت لازمی ہو جب تک عوام ایک منصوبے کو اپنا سمجھ کر کامیاب کرنے کی کوشش نہ کرے کوئی مائی کا لال اسے کامیاب نہیں کرسکتا۔اجلاس میں پبلک ہیلتھ کے ایس ڈی او کو ہدایت کی کہ فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پائپ پہنچایا جائے تاکہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت قدرتی چشموں سے پینے کی پانی پائپ کے ذریعے لائے۔ محکمہ تعلیم مردانہ اور زنانہ دونوں کے ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ چترال کے اکثر سکولوں کی یا تو چاردیواری گر چکی ہے یا دریا کی کٹائی کی وجہ سے جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں ان تمام متاثرہ سکولوں کو خیمے پہنچایا جائے تاکہ یہ بچے خیمہ (ٹینٹ) میں بیٹھ کر اپنی پڑھائی جاری رکھ سکے۔ ایم پی اے نے تحصیل میونسپل انتظامیہ کے ذمہ داران پر نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غفلت کی وجہ سے کروڑوں روپے کافنڈ واپس چلاگیا۔اجلاس میں غیر سرکاری اداروں کے کاموں کو بھی بے حد سراہا گیا کہ مصیبت کے اس گھڑی میں متاثرہ لوگوں تک ریلیف پہنچاتے رہے۔ایم پی اے نے واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں بدعنوانی، غفلت اور سست روی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس میں گاڑیوں کی خریدنے میں پندرہ کروڑ روپے کی غبن پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بد عنوان افسروں کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور کھڑا کریں گے۔ اور لوٹا ہوا قومی دولت ان سے واپس لیا جائیگا۔ اجلاس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ ذراعت، تعلیم، ٹی ایم اے، آبپاشی، محکمہ خوراک، پبلک ہیلتھ وغیرہ تمام ذیلی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔جن کو ایم پی اے سردار حسین نے ہدایت کی کہ وہ دن رات ایک کرکے فوری طور پر بحالی کا کام شروع کرے تاکہ لوگ سردیاں آنے سے پہلے پہلے اپنے تبا ہ شدہ مکانات، آبپاشی کی نہریں، پینے کی پانی کی پائپ لائن، پُلیں وغیرہ بحال کرے تاکہ یہ لوگ ایک بار پھر معمول کی زندگی گزارنا شروع کرے۔