• Home »
  • نیوز »
  • سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام پراجیکٹ ٹیک اے چائلڈ ٹو سکول کے زیر اہتمام منعقدہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن فورم میں اس بات پر زور دیا گیا

سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام پراجیکٹ ٹیک اے چائلڈ ٹو سکول کے زیر اہتمام منعقدہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن فورم میں اس بات پر زور دیا گیا

چترال (نمائندہ شندور ٹائمز) سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام پراجیکٹ ٹیک اے چائلڈ ٹو سکول کے زیر اہتمام منعقدہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن فورم میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سکول میں داخلے سے رہنے والے بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے اور اس کے نتیجے میں علاقے سے ناخواندگی کا مکمل خاتمہ کرنے کا کام صرف محکمہ تعلیم کا نہیں بلکہ اس میں سول سوسائٹی کا کردار بھی اہم ہے اور اس پراجیکٹ نے اس سلسلے میں نہایت ہی منفرد، سائنسی اور نتیجہ خیز انداز میں کا م شروع کیا ہے جس کے ثمرات بہت جلد ہی سامنے آئیں گے۔ جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں منعقد ہ اس تقریب میں ایس آر ایس پی کے ڈی پی ایم طارق احمد، کے پراجیکٹ کوارڈینیٹر رحمت ولی شاہ، ڈپٹی ڈی ای او (مردانہ) حافظ نور اللہ، ڈی ای او فیمل حلیمہ بی بی اور پراجیکٹ کے تحت کام کرنے والے مختلف دیہات سے آئے ہوئے محلہ کمیٹیوں کے عہدیداران اور ایلمبیسڈر کے نام سے رضا کاروں نے کثیر تعدا د میں شرکت کی۔ اس موقع پر طار ق احمد نے اپنے خطاب میں کہاکہ ایس آر ایس پی نے 2002ء میں چترال میں قیام کے بعد سے ایجوکیشن کے سیکٹر میں مختلف انداز میں کام کرتا رہا ہے جن میں انفراسٹرکچروں کی تعمیر، بحالی اور بہتری کے علاوہ معیار تعلیم میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات اور موجودہ پراجیکٹ میں ان بچوں کو سکول میں داخل کرنے میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی معاونت ہے جوکہ کسی وجہ سے داخلے سے محروم رہ گئے ہیں جن کو مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ارندو اور دمیل میں بھی ایس آر ایس پی اس وقت اپنے پاترپ نامی پراجیکٹ کے ذریعے سکولوں کی عمارتوں کی بہتری میں مصروف ہے جبکہ ضلعے کے مختلف تین ہائر سیکنڈری سکولوں میں بھی معیار کی بہتری کا کام جاری ہے۔ اس سے قبل پراجیکٹ کوارڈینیٹر رحمت ولی شاہ نے کہا کہ پہلے مرحلے میں سات یونین کونسلوں چرون، لوٹ کوہ، ایون، چترال ون، چترال ٹو، دروش ون اور دروش ٹو کو اس پراجیکٹ میں لئے گئے ہیں اور بتدریج دوسرے یونین کونسلوں تک اسے بڑہادیا جائے گا۔ا نہوں نے کہاکہ اس پراجیکٹ میں محلہ کمیٹی تشکیل دئیے جاتے ہیں اور ایلمبسیڈر کے نام سے رضا کار وں کی ٹیم تیار کی جاتی ہے جوکہ سکول سے آؤٹ بچوں اور بچیوں کا ڈیٹا تیار کرتے ہیں اور محلہ کمیٹی اپنے اپنے علاقے میں سکولوں میں بچوں کو داخل کرنے کے ساتھ ساتھ سکول کی کارکردگی کی بہتری میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس موقع پر محلہ کمیٹی بریر کے چیرمین شمس الربی، بروزمحلہ کمیٹی کے رحمت ولی اور اورغوچ کے گوہر خان نے شرکاء کے ساتھ اپنی اپنی کارکردگی اور ان کے نتائج شئر کئے اور ساتھ ساتھ سکولوں کے مسائل بھی بیان کئے۔ حافظ نوراللہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ ماہرین تعلیم نے تعلیم کی بہتری میں انفراسٹرکچر کو بہت ہی اہمیت دی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ ایس آر ایس پی نے ضلعے میں مختلف پراجیکٹوں کے ذریعے اس فیلڈ میں قابل قدر کام کیا ہے جوکہ اب بھی جاری ہے اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ اکیلے حکومت کے لئے یہ کام بہت ہی مشکل ہے۔ انہوں نے اس پراجیکٹ کو انرولمنٹ کی بہتری کے سلسلے میں انتہائی اہمیت کے حامل قرار دیتے ہوئے ایلمبسیڈروں پر زور دیا کہ وہ اسے ایک چیلنج سمجھ کر انجام دیں اور اپنے علاقے سے جہالت کو مٹادیں۔ ڈی ای او فیمل حلیمہ بی بی نے کہاکہ ویلج کمیٹیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ان کی وجہ سے سرکاری سکولوں کے بارے میں مستند معلومات کاحصول ممکن ہوگیا ہے جن کی بنیاد پر بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا اورغوچ میں زنانہ سکول میں ابنوشی کے منصوبے کے واسطے ایڈیشنل گرانٹ کا بھی اعلان کیا۔