• Home »
  • Uncategorized »
  • عمران خان نے تبدیلی کیلئے بہت جدوجہد کی ، کامیاب ہو نگے : چیب اردوان، ترکی کے تجربات سے استفادہ کرینگے : عمران خان

عمران خان نے تبدیلی کیلئے بہت جدوجہد کی ، کامیاب ہو نگے : چیب اردوان، ترکی کے تجربات سے استفادہ کرینگے : عمران خان


(مانیٹرنگ ڈیسک ،) ترکی اور پاکستان نے دو طرفہ برادارنہ تعلقات کومعیشت سمیت مختلف شعبوں میں مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے ۔وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کو انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے دوطرفہ تعلقات میں گرمجوشی پائی جاتی ہے اور یہ وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوں گے ۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی علاقے کے لوگوں نے ترکی کی آزادی کی تحریک میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا، ترکی اور پاکستان کے درمیان قربت اوردوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترکی کے ساتھ تمام شعبوں خصوصا معیشت میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، یہ وجہ ہے کہ معاشی ٹیم کو اپنے ہمراہ ترکی لایا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ملاقات میں سکیورٹی سے متعلق دو طرفہ امور بھی زیر غور آئے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 50لاکھ بے گھر لوگوں کے لئے گھر بنانے جارہے ہیں، ہاؤسنگ کے شعبے میں ترکی کے تجربے سے استفادہ چاہتے ہیں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی اصلاحات کے حوالے سے ترکی کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کے خواہشمند ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعاون کر رہا ہے، افغانستان میں قیام امن خطے کی ترقی و استحکام کے لئے ناگزیر ہے، ہم افغانستان کے معاملے پر ترک تعاون کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لئے بھارت کے ساتھ بھی مذاکرات چاہتے ہیں ،پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہا ہے ۔اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کے لئے طویل جدوجہد کی،ہم انکا اوران کے وفد کا انقرہ میں خیر مقدم کرتے ہیں، عمران خان کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں،خواہش ہے کہ پاک ترک تعلقات طویل عرصے تک آگے بڑھیں، ملاقات میں ہم نے تمام شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ،افغانستان ،ترکی سہ فریقی اجلاس افغان امن عمل میں معاون ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ترکی فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2019پاکستان اور ترکی کے درمیان مزید قربت کا سال ثابت ہوگا۔اس کے علاوہ پاکستان اور ترکی کے درمیان انقرہ میں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی جب کہ ترک وفد کی قیادت وزیر خارجہ چاوش اولو نے کی۔مذاکرات میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس کے علاوہ دونوں ممالک کے دفود کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ سمیت دیگر اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان اور ترکی نے افغان مسئلے کے جلد پْرامن حل کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔میولوت چاوش اولو کا کہنا تھا کہ ترکی افغان امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا معترف ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان،کشمیر سمیت اہم امور پر پاکستان اور ترکی کے مؤقف میں یکسانیت خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات حکومتوں تک محدود نہیں ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری محبت کے پیچھے ثقافت، مذہب اور عوام کی محبت کارفرما ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کے لیے صدارتی محل پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔اس سے قبل وزیراعظم نے انقرہ میں ترک بزنس کمیونٹی سے خطاب بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 1960 میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت میں شامل تھا، 60 کی دہائی میں پاکستان ملائیشیا اور جنوبی کوریا کے لیے رول ماڈل تھا تاہم 60 کے بعد منافع کمانے والوں کو برا سمجھا جانے لگا جس سے معیشت کو نقصان ہوا، نیشنلائزیشن کی پالیسی نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا۔وزیراعظم عمران خان سے ترکی کے وزیر زراعت نے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں میں زرعی تعاون سمیت امور پر تبادلہ خیال ہوا۔۔وزیراعظم نے پاکستان ترکی بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری میں کمی ہوئی، معاشی اہداف کی ناکامی کی بڑی وجہ بھی کرپشن ہے۔عمران خان نے ترک بزنس مین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان میں آپ کو ایک مختلف حکومت ملے گی، سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی، برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہی ہے، منافع کمانے سے لوگوں کوغربت سے نکالنے میں مدد ملتی ہے، جتنی دولت کمائی جائے گی اتنے ہی ٹیکسز زیادہ حاصل ہوں گے۔