• Home »
  • Uncategorized »
  • نورنواز سرکاری کرسی پر بیٹھ کے دفتر کے ملازمین جوکہ ٹھیکہ داری بھی کرتے ہیں اُن کو سرمایہ فراہم کرکے ٹھیکہ داری کراتے ہیں

نورنواز سرکاری کرسی پر بیٹھ کے دفتر کے ملازمین جوکہ ٹھیکہ داری بھی کرتے ہیں اُن کو سرمایہ فراہم کرکے ٹھیکہ داری کراتے ہیں

چترال(نمائندہ شندور ٹائمز) کنٹریکٹر ایسوسی ایشن چترال کے عہدیدارن اور ممبران نے صوبائی حکومت سے چترال نور نواز کے خلاف چترال کے ٹھیکہ داروں سے رشوت طلب کرنے اور اُن کے ساتھ ہتک امیز رویہ رکھنے کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔جمعہ کے روز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن چترال کے سینئر نائب صدر جاوید اختر،تاج رسول،رحمت آیاز،فضل ہادی،سیف الرحمن،احسان اللہ،شفیق الرحمن،سہیل احمد،جہانزیب اور میرکمال ودیگر نے چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال نور نواز ایک انتہائی کرپٹ آفیسر ہیں جو کہ ٹھیکہ ڈاروں کے ساتھ اُن کا رویہ بھی انتہائی ہتک آمیزہے جوکہ

کھلم کھلا رشوت طلب کرتے ہیں۔بلکہ سرکاری دفتر میں ٹھیکہ ڈاروں کی جیبیں ٹٹولتے ہیں جوکہ نامناسب طریقہ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ نورنواز سرکاری کرسی پر بیٹھ کے دفتر کے ملازمین جوکہ ٹھیکہ داری بھی کرتے ہیں اُن کو سرمایہ فراہم کرکے ٹھیکہ داری کراتے ہیں اور جب کوئی ٹھیکہ دار اُن کے نامناسب رویے کے خلاف احتجاج کرئے توانہیں بلیک لیسٹ کرنے کی دھمکی دینے کے ساتھ اُن کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ میں پی ٹی آئی اور مشیر محکمہ بلدیات کامران بنگش کا خاص بندہوں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اُنہوں نے کہا کہ نورنواز کسی بھی ٹھیکہ دار کے ساتھ سائیٹ وزٹ نہیں کرتے اور بل بناتے وقت ٹھیکہ داروں کو ادائیگی کے وقت زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور بل بناتے وقت مختلف قسم کے دستخط کرکے بعد میں اپنے دستخط سے مکر جاتے ہیں اور ٹھیکہ داروں کو بلیک میل کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے نورنواز کے دستخط مختلف ٹیسٹوں کے لئے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں جوکہ اس کے کرپٹ ہونے اور جعلساز ہونے کا ثبوت ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ناجائز کمیشن لینے اور لوگوں کو بے جا تنگ کرنے پر سابق تحصیل ناظم بونی مولانا یوسف نے اس کی پٹائی بھی کی تھی جسکے بعد یہ اپنے دفتر بونی میں نہیں جاسکتے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نورنواز کے خلاف فوراً انکوائری کا حکم دیں بصورت دیگر چترال کے کنٹریکٹر ایسوسی ایشن اپر اور لوئر چترال میں احتجاج پر مجبور ہوجائینگے۔