وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی کیس نہیں، 7 مشتبہ افراد کلیئر ہو گئے، چین سے آنے والوں میں بھی کوئی مشتبہ شخص شامل نہیں


اسلام آباد(،مانیٹرنگ ڈیسک، )وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا کوئی کیس نہیں، 7 مشتبہ افراد کلیئر ہو گئے، چین سے آنے والوں میں بھی کوئی مشتبہ شخص شامل نہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے کٹس مل گئی ہیں، کٹس مختلف ممالک سے منگوائی گئی ہیں، کٹس سے 7 افراد کا معائنہ کیا گیا، ساتوں افراد میں وائرس تشخیص نہیں ہوا، چین سے آنیوالوں کا خود استقبال کیا، چین سے آنیوالوں میں کوئی مشتبہ مسافر نہیں ملا۔اس موقع پر چینی سفیر کا کہنا تھا کرونا وائرس سے 371 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک میں تمام تقریبات کو منسوخ کر دیا ہے، دنیا کو اپنے اقدامات سے آگاہ کر رہے ہیں، ڈبلیو ایچ او نے ہمارے اقدامات کو سراہا ہے، پر امید ہیں اس وبا سے نمٹ لیں گے، پاکستان کی حمایت کو سراہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو خط بھی لکھا۔ چینی سفیر یاؤجنگ کا کہنا تھا چین میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد ہے، مشکلات وقتی ہیں، تمام پاکستانیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، چین میں پاکستانی شہریوں کو اپنا ہم وطن سمجھتے ہیں، آج 12 چینی باشندے بھی پاکستان آئے ہیں، سفر کیلئے 2 ہفتے معائنے میں رکھا جاتا ہے، پاکستان آنیوالے 12 چینی باشندوں میں 4 بزنس مین ہیں، سخت مانیٹرنگ کے بعد ان افراد کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی، چین نے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے اقدامات کیے۔دریں اثناچین اور پاکستان کے درمیان فضائی آپریشن بحال کر دیا گیا، چین سے 3 پروازوں کے ذریعے 40 طلبا سمیت 183 مسافر اسلام آباد پہنچ گئے، جس میں 172 پاکستانی اور 11 چینی باشندے شامل تھے۔ ائیر پورٹ حکام کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کرونا وائرس کے باعث 29 جنوری کو چین اور پاکستان کے درمیان فضائی آپریشن معطل کیا تھا جو اب بحال کر دیا گیا ہے۔ ارمچی سے پہلی براہ راست پرواز 61 پاکستانیوں کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچی جس میں 11 چینی اور 50 پاکستانی مسافر سوار تھے۔دوسری غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز کیو آر 632 سے 40 طلبا براستہ دوحہ اسلام آباد پہنچے۔ ائیرپورٹ پر وزارت صحت نے چین سے آنے والوں کے لیے خصوصی ڈیسک بنائے جہاں ان کا میڈیکل چیک اپ اور سکریننگ کی گئی، میڈیکل چیک اپ کے بعد تمام طلبا کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، کسی میں کرونا وائرس نہیں ملا۔تیسری پرواز سی زیڈ 5241 ارمچی سے براہ راست 82 مسافروں کو لیکر اسلام آباد پہنچی۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے بھی اسلام ایئرپورٹ کا دورہ کیا اور مسافروں کی سکریننگ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے حکومت پاکستان ہر ممکنہ ہنگامی صورتحال کیلئے تیار ہے، قومی ادارہ صحت میں ممکنہ کروناوائرس کیسز کی تشخیص کی سہولت موجود ہے۔دوسری طرف کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔اعلامیے میں محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ ایک ماہ کے لیے کیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کے خطرات سے محفوظ رہنے، تیاری اور رسپانس کے لئے انتظامات کی ہدایات بھی دی گئیں ہیں۔قومی ادارہ برائے صحت نے کرونا وائرس کی تشخیص کا آغاز کر دیا۔ کراچی، لاہور، ملتان سے حاصل کیے گئے 6 نمونوں کی جانچ کی جائے گی۔قومی ادارہ برائے صحت نے لیاری کے ارسلان سمیت چین سے پاکستان آنے والوں کے نمونے لیے، 24 سے 48 گھنٹے میں رپورٹ آنے کا امکان ہے، کراچی کے آغا خان، ڈاو ہسپتال بھی تشخیصی صلاحیت حاصل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔چین میں کورونا وائرس کے بعد چھٹی پر گئے تھرکول ایریا بلاک ٹو کے 700چینی شہریوں کی واپسی روک دی گئی ہے،متعلقہ کمپنی نے ان چینی شہریوں کی واپسی کو دونوں ممالک کے کلیئرنس سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا ہے۔