• Home »
  • نیوز »
  • چیف جسٹس نے ڈیم بنانے کیلئے موبائل کارڈ پر ٹیکس بحال کرنے کی تجویز دیدی، قوم سے رائے طلب

چیف جسٹس نے ڈیم بنانے کیلئے موبائل کارڈ پر ٹیکس بحال کرنے کی تجویز دیدی، قوم سے رائے طلب

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک،) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اگر قوم نے اجازت دی تو پری پیڈ کارڈ پر دوبارہ ٹیکس لگا کر ڈیم کے لیے پیسے جمع کریں گے، قوم میری اس تجویز پر رائے سے ضرور آگاہ کرے،دریائے سندھ کے انچ انچ پر ڈیم بننا چاہیے، امید ظاہر ہے ایک دن چاروں صوبے کالا باغ ڈیم پر بھی متفق ہوجائیں گے، لاہور اور کوئٹہ میں بھی زیر زمین پانی نیچے سے نیچے جا رہا ہے،نئی نسل کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، ڈیم کی تعمیر صرف پاکستان کی نہیں، انسانیت کی تحریک بن گئی ہے، ڈیم فنڈ میں آنے والی ایک ایک پائی کی حفاظت کی جائے۔ لندن میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم فنڈ ریزنگ کے لیے لاہورسے چلا تویقین نہیں تھا کہ اس طرح کی پزیرائی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جومحبت اورپیارآپ لوگوں نے نچھاورکیا وہ بے مثال ہے، اوورسیزبھائیوں، بہنوں کے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہوئے دیکھے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کوئی مشکل آتی ہے توسب سے پہلے قربانی اوورسیز پاکستانی مہیا کرتے ہیں، زلزلہ، سیلاب، زرمبادلہ کی پریشانی آئے تواوورسیز پاکستانی قربانی دیتے ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ منشا بم کے زیرقبضہ جائیداد کوایک دن میں واگزارکرایا، منشا بم طاقت ورآدمی تھا، گرفتاری دینے کے لیے عدالت میں بیٹھا رہا۔انہوں نے کہا کہ بے خو ف، بنا مصلحت انصاف کرنے والا قاضی ملا تو پاکستان ترقی کرے گا، کسی بھی اسلامی ملک میں حضرت عمرجیسی حکومت کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بینکوں کی کم ازکم پنشن کی رقم 8 ہزارمقرر کی، عدالتی حکم کے تحت بھینسوں کوٹیکے لگانے پرپابندی لگائی گئی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پہلے ملک میں دل کے مریض کو ایک اسٹنٹ 4 لاکھ میں ڈالا جاتا تھا، عدالتی مداخلت کے بعد ہم نے اسٹنٹ کی قیمت ایک لاکھ مقرر کرائی۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے میڈیکل طلبہ کی فیس 6 لاکھ 40 ہزارمقرر کی تھی، نجی کالج میڈیکل کے طلبہ سے 34 سے 40 لاکھ فیس لیتے تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ منرل واٹروالے 4 لیٹرپرصرف ایک پیسہ ٹیکس دیتے تھے، سپریم کورٹ نے منرل واٹرپرٹیکس ایک روپے مقررکرایا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ایک مہینے میں دل کے سوراخ والے بچے کا آپریشن ممکن کرایا، جگرکی پیوندکاری کرنے والے ڈاکٹرکوبرمنگھم سے پاکستان بلوایا۔انہوں نے کہا کہ پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو والدین کے ترکہ سے حصہ دلایا، بہن کوحصہ نہ دینے والے بھائی نیعدالتی حکم پرایک دن میں حصہ دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کہتے ہیں تھرمیں پانی کے منصوبے لگائے، پروہاں پانی آج بھی نہیں، کیا تھر کے بچوں کوزندگی کا حق نہیں؟۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ مدینہ میں مواخات کے بعد سب سے بڑا مسئلہ پانی کی فراہی تھا، حضرت عثمان نے یہودی سے کنواں خرید کروقف کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہورمیں پانی 400 فٹ نیچے جاچکا ہے، کوئٹہ میں زیرزمین پانی 1500 فٹ پرملتا ہے، آئندہ نسلوں کوبچانے کے لیے عشق اورہمت ہی درکارہے، آج پانی جتنا بچائیں اتناہی اہم ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 40 سال سے ڈیم نہیں بنے، کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں، سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ ہمارا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کی ہمیں کوئی پروا نہیں، ڈیم کی تعمیرپاکستان میں ایک تحریک بن چکی ہے، 7ہزارروپے پنشن لینے والا ڈیم کے لیے ایک لاکھ روپے چندہ لیکرآیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیم کی تحریک پاکستان کی نہیں انسانیت کی تحریک بن گئی ہے، سکھوں نے کینیڈا سے ڈیم کے لیے 50 ہزارڈالرفنڈ بھیجا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم فنڈ قوم کی امانت ہے اس میں خیانت ہونے نہیں دوں گا، ڈیم فنڈ محفوظ ہاتھوں میں دے کرجا ؤ ں گا، ڈیم فنڈ سے 2 روپے بھی خرچ ہوئے تو اس کا شفاف حساب کتاب ہوگا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پری پیڈ کالنگ کارڈز پرود ہولڈنگ ٹیکس معطل کرایا، کارڈز پر ماہانہ 3 ارب ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں لیا جاتا تھا، قوم اجازت دے توود ہولڈنگ ٹیکس لگا کرپیسہ ڈیم فنڈ میں دیں گے۔