• Home »
  • نیوز »
  • ڈالر کی اُڑان ، مہنگائی کا طوفان ، سونا بھی بے قابو ، ڈالر 142پر پہنچ کر 138.50 روپے پر واپس سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 10فیصد کر دی ، سٹاک مارکیٹ میں مندا ، غیر ملکی قرضوں میں اضافہ

ڈالر کی اُڑان ، مہنگائی کا طوفان ، سونا بھی بے قابو ، ڈالر 142پر پہنچ کر 138.50 روپے پر واپس سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 10فیصد کر دی ، سٹاک مارکیٹ میں مندا ، غیر ملکی قرضوں میں اضافہ

راچی(اکنامک رپورٹر ،\انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 8 روپے اضافے کے بعد 142 روپے کی سطح پر پہنچا تاہم کچھ دیر بعد اس میں کمی واقع ہوئی اور 138.50 کی سطح پر آگیا جو اب بھی بلند ترین سطح ہے۔ڈالر مہنگا ہونے سے سونے کی قیمت بھی فی تولہ ایک ہزار روپے کاتاریخ کابلند ترین اضافہ ہواہے جس کے بعد سٹاک مارکیٹ میں شدید مندا رہا اور کے ایس ای100انڈیکس 40600اور40500کی نفسیاتی حدوں سے گرگیا۔تفصیلات کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے سے ملکی قرضوں کا بوجھ 430 ارب روپے بڑھ جائے گا۔گزشتہ ایک سال کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 36 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے ڈالر کی قیمت میں 19 روپے 50 پیسے تک اضافہ ہوچکا ہے جبکہ قرضوں کے بوجھ میں 1377 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ادھر اوپن مارکیٹ میں ڈالر 141 روپے 50 پیسے کا ہے جس کی قیمت میں 6 روپے 10 پیسے اضافہ ہوا۔ڈالر مہنگا ہونے کے بعد سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ایک ہزار روپے اضافے کیساتھ سونے کی فی تولہ قیمت 64500روپے ہوگئی ہے جبکہ 10 گرام سونے کی قدر 857 روپے اضافے سے 55298روپے ہوگئی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قدر 3 ڈالر کم ہوکر ایک ہزار 122 ڈالر فی اونس ہوگئی ۔ادھر کاروباری ہفتے کے آخری روزڈالر مہنگا ہونے پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا تسلسل جاری رہا،کے ایس ای100انڈیکس 40600اور40500کی نفسیاتی حدوں سے گرگیاتاہم مندی کے باوجودسرمایہ کاری مالیت میں8ارب11 کروڑ روپے سے زائدکااضافہ ریکارڈ کیاگیاجبکہ کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت177.56فیصدزائد اور69.97فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔حکومتی مالیاتی اداروں اور مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب بینکنگ،توانائی،کیمیکلز،سیمنٹ اوردیگرسیکٹرمیں خریداری کے باعث جمعہ کوکاروبارکاآغازمثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس 40932پوائنٹس کی بلندسطح پر بھی ریکارڈ کیاگیاتاہم ملکی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافے کے باعث مقامی سرمایہ کار تذبذب کا شکار نظرآئے اور اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور کے ایس ای100انڈیکس403028پوائنٹس کی سطح پر آگیا تاہم ایک بار پھر غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافق بخش سیکٹر میں خریداری کے باعث مارکیٹ میں ریکوری آئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس کی 40400کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی تاہم اتارچڑھاؤ کا سلسلہ سارا دن جاری رہا۔مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس142.80پوائنٹس کمی سے40496.03پوائنٹس پر بندہوا۔مجموعی طور پر363کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سے84کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں اضافہ،254کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ25کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔سرمایہ کاری مالیت میں8ارب11 کروڑ90لاکھ27ہزار621روپے کااضافہ ریکارڈ کیاگیاجبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت بڑھ کر80کھرب67 ارب32 کروڑ 93لاکھ64ہزار627روپے ہوگئی ۔جمعہ کومجموعی طور پر27کروڑ7لاکھ91ہزار530شیئرزکا کاروبارہوا،جوجمعرات کی نسبت17کروڑ33لاکھ71ہزار370 شیئرززائدہیں۔قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے پاک ٹوبیکوکے حصص سرفہرست رہے ،جس کے حصص کی قیمت78.38روپے اضافے سے2378.10روپے اورماری پیٹرولیم کے حصص کی قیمت66.00روپے اضافے سے1391.31روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی وائتھ پاک لمیٹڈکے حصص میں ریکارڈکی گئی،جس کے حصص کی قیمت42.69روپے کمی سے1104.06روپے اورہینوپاک موٹرزکے حصص کی قیمت31.50روپے کمی سے598.68روپے پر بند ہوئی ۔جمعہ کو یونائیٹڈ بینک کی سرگرمیاں5کروڑ20لاکھ62ہزار500شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں،جس کے شیئرز کی قیمت2.97پیسے کمی سے141.53روپے اوربینک آف پنجاب کی سرگرمیاں2کروڑ91لاکھ41ہزارشیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی،جس کے شیئرز کی قیمت5پیسے اضافے سے13.24روپے ہو گئی۔جمعہ کوکے ایس ای30انڈیکس42.14پوائنٹس کمی سے19324.04پوائنٹس،کے ایم آئی30انڈیکس494.61 پوائنٹس کمی سے68388.96پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس29.97پوائنٹس اضافے سے29381.69پوائنٹس پر بند ہوا ۔

ڈالر ،سونا مہنگا

کراچی(اکنامک رپورٹر ،)سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کردیا۔ڈیڑھ فیصد اضافے سے شرح سود کئی سالوں بعد (ڈبل ڈیجٹ )دہرے ہندسے میں داخل ہوتے ہوئے 10فیصد تک جاپہنچی۔سٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ستمبر 2018میں اعلان کردہ مالیاتی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے تھے اور تجارتی خسارے میں بہتری بھی نظر آئی لیکن بڑھتی مہنگائی، بلند مالیاتی خسارے اور زرمبادلہ کے کم ذخائر کے سبب پاکستان کی معیشت کر درپیش مشکلات تاحال برقرار ہیں۔بینک کے مطابق مالی سال 19-2018 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.9 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال اسی دورانیے میں یہ شرح 3.5 فیصد تھی۔اعلامیے میں امید ظاہر کی گئی کہ دوسری ششماہی میں نجی و سرکاری ذرائع سے بیرونی رقوم آنے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جو زرمبادلہ کے ذخائر پر موجود دبا میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوگا۔بیان میں کہا گیا کہ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مہنگائی کے مسلسل دباؤ اور حقیقی شرح سود میں کمی سمیت دیگر عوامل معیشت میں استحکام کے لیے مزید کوششوں کا تقاضہ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے شرح سود 150 بیسز پوائنٹس اضافے سے 10فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نئی مانیٹری پالیسی کا اطلاق 3 دسمبر 2018 سے ہوگا۔

Related Posts