• Home »
  • Uncategorized »
  • کرونا مزید 57چینیوں کو نگل گیا، پاکستان اور چین کے درمیان فضائی سروس بحال،182مسافروں کی آمد، ملک میں کرونا کا کوئی کیس نہیں: ڈاکٹر ظفر مرزا

کرونا مزید 57چینیوں کو نگل گیا، پاکستان اور چین کے درمیان فضائی سروس بحال،182مسافروں کی آمد، ملک میں کرونا کا کوئی کیس نہیں: ڈاکٹر ظفر مرزا


 بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک، )ووہان شہر میں ریکارڈ 8 روز میں بننے والا ایک ہزار بیڈز کا ہسپتال فعال ہو گیا۔ چین کو خطرنا ک وائرس پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 361 اور متاثرہ افراد کی تعداد 17 ہزار سے زائد ہو گئی۔ امریکا میں 11ویں اور بھارت میں دوسرے کیس کی تصدیق،کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری، کلر وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، چین میں مزید 57 افراد ہلاک ہو گئے۔ متاثرہ افراد کی تعداد 17ہزار 200 تک جا پہنچی، 475 افراد کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چین سے باہر دنیا بھر میں کرونا وائرس کے 150 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ امریکہ میں 11 ویں اور بھارت میں دوسرے کیس کی تصدیق کی گئی ہے۔ ووہان شہر میں ریکارڈ 8 روز میں بننے والا ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال فعال ہو گیا جس میں پیرکے روز سے مریضوں کا علاج ہوگیا۔چینی آرمی کے 14 سو میڈیکل اسٹاف کے ماہرین متاثرہ شہر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔دوسری طرف چین نے متعلقہ ممالک سے کہا ہے کہ نوول کرونا وائرس کی وباء کواستدلال اور ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ دیکھتے ہوئے سائنسی اصولوں پر مبنی مناسب ردعمل ظاہر کریں۔پیرکو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ان خیالات کا اظہار بعض ممالک کی جانب سے چینی شہریوں پر پابندیاں عائد کرنے سے پیدا شدہ صورتحال سے متعلق سوال پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ان ممالک میں امریکہ نے چین کے لئے اپنی ٹریول ایڈوائزری کو بلند ترین سطح تک بڑھاتے ہوئے ایسے تمام غیر ملکیوں کے داخلے پر 2فروری سے عارضی طور پرپابندی عائد کردی ہے جنہوں نے گزشتہ دوہفتوں کے دوران چین کا سفر کیاہو۔انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت کے حوالے سے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چینی حکومت نے اس وباء کے پھوٹنے کے بعد سے اس وبا کے تدارک اور اس پر قابو پانے کے لئے جامع ترین اقدامات اٹھائے ہیں،جن میں سے کئی ایک اقدامات صحت کے حوالے سے مطلوبہ عالمی قواعد کی ضرورت سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ہوا نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈھانوم گیبریسس کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ چین نے وبا ء کے خلاف اقدام میں نئے معیارات قائم کئے ہیں۔جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر صحت کے حوالے سے ہنگامی صورتحال کا نفاذ چین پر عدم اعتماد نہیں ہے۔ہوا نے کہا کہ اکثر ممالک نے نوول کرونا وائرس پر قابو پانے کی چینی کوشش کو سراہا ہے اور اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے چین ان ممالک کی جانب سے سرحدی علاقوں میں قرنطینیہ کے اقدامات کو سمجھتا ہے اوران کااحترام کرتا ہے تاہم کچھ ممالک خصوصا امریکہ نے غیر مناسب طور سے ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کیا ہے جو یقینی طور پر ڈبلیو ایچ او کی سفارش کے برعکس ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا کورونا وائرس سے متعلق من گھڑت کہانیاں اور بے بنیاد افواہیں پھیلا رہا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے کورونا وائرس سے متعلق عالمی سطح پر افواہیں پھیلانے پر امریکا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے جان بوجھ کر بے بنیاد اور من گھڑت کہانیاں پھیلائیں جس سے دنیا بھر میں خوف و ہراس میں اضافہ ہوا۔چین کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے کورونا وائرس پر جو جارحانہ اقدامات اْٹھائے اس سے دنیا بھر میں دہشت اور خوف کا پیغام گیا۔ امریکا اس مرحلے پر ہماری معاونت کرسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا