• Home »
  • نیوز »
  • کم ترقی یافتہ علاقوں کے بارے میں سینٹ کی فنکشنل کمیٹی کے اراکین نے سینیٹر عثمان کاکڑ کی قیادت میں چترال میں ترقی کے مسائل کا جائزہ لینے کے لئے جمعہ کے دن چترال پہنچنے کے بعد ڈپٹی کمشنر چترال آفس میں منتخب قیادت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد

کم ترقی یافتہ علاقوں کے بارے میں سینٹ کی فنکشنل کمیٹی کے اراکین نے سینیٹر عثمان کاکڑ کی قیادت میں چترال میں ترقی کے مسائل کا جائزہ لینے کے لئے جمعہ کے دن چترال پہنچنے کے بعد ڈپٹی کمشنر چترال آفس میں منتخب قیادت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد

چترال (نمائندہ شندور ٹائمز) کم ترقی یافتہ علاقوں کے بارے میں سینٹ کی فنکشنل کمیٹی کے اراکین نے سینیٹر عثمان کاکڑ کی قیادت میں چترال میں ترقی کے مسائل کا جائزہ لینے کے لئے جمعہ کے دن چترال پہنچنے کے بعد ڈپٹی کمشنر چترال آفس میں منتخب قیادت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جس میں کمیٹی کے دوسرے ممبران سردار اعظم خان موسیٰ خیل اور مومن خان اور ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ، ڈی سی چترال خورشید عالم محسود، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی سربراہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے موجود تھے۔ اس موقع پر چترال کو مختلف شعبہ جا ت میں درپیش مسائل تفصیل سے سننے کے بعد سینیٹر عثمان کاکڑ

نے کہاکہ اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ پسماندہ تریں علاقوں میں خزانے کی موجود گی اور قومی دولت میں اس کی فراہمی کے باوجود یہ علاقے اب تک بدتریں غربت کا شکار ہیں جہاں عوام کو کھانے کے لئے روٹی اور پینے کے لئے پانی بھی دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 71سالوں سے ترقی یافتہ علاقوں کی طرف سے غیر ترقی یافتہ علاقوں کے ساتھ ظلم وجبر کا سلسلہ جاری ہے جنہوں نے امیروں اور غریبوں کے لئے الگ الگ پاکستان بنارکھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب کم ترقی یافتہ علاقوں میں یہ شعور اور آگہی بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں اپنے حق کے لئے جدوجہد کے لئے میدان میں اترنا ہے اور این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کی نرالی اور غیر منصفانہ منطق کو تبدیل کرتے ہوئے پسماندگی اور ضرورت کو بنیاد بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں جمود کو توڑنا

ہوگا اور پلاننگ کمیشن پر قابض لوگوں کو مزید ناانصافی کرنے نہ دیں کیونکہ یہ بات مسلم حقیقت ہے کہ لوگ اس وقت باغی ہوجاتے ہیں جب دولت کی تقسیم درست نہ ہو۔ انہوں نے مقامی قیادت کی شکایت پر اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ لواری ٹنل کی تکمیل کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے اس ٹنل کو مسافروں کی استعمال کے لئے دن میں بارہ گھنٹے بند رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جن مسائل کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے، ان مسائل کو آئندہ بجٹ تجاویز میں لانے کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جبکہ صوبائی حکومت سے متعلق مسائل کو چیف

سیکرٹری پختونخوا کے ساتھ خصوصی اجلاس میں زیر غور لائے جائیں گے۔ اس موقع پرنواز شریف حکومت کے اعلان کردہ چترال میں متعدد سڑک کے منصوبہ جات اور گیس پلانٹ منصوبے کو ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلا س میں ڈی پی او فرقان بلال، ایڈیشنل ڈی سی منہاس الدین، ڈی او فنانس اینڈ پلاننگ حیات شاہ، سیٹلمنٹ افیسر سید مظہر علی شاہ، پختونخوا بار کونسل کے رکن عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ بھی موجود تھے۔