• Home »
  • نیوز »
  • یاد رفتگان،,,, قائد اعظم محمد علی جناح کے خادم خاص عبیر ولی شاہ ,,,,,,تحریر، میاں محبوب علی شاہ کا کا خیل

یاد رفتگان،,,, قائد اعظم محمد علی جناح کے خادم خاص عبیر ولی شاہ ,,,,,,تحریر، میاں محبوب علی شاہ کا کا خیل

چترال کو یہ فخر حاصل ہے کہ قیا م پاکستان کے وقت سب سے پہلے ریاست چترال نے پاکستان کے ساتھ اپنے الحاق کا ااعلان کیا اور چترال کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ چترال کا ایک فرزند قائدااعظم محمد علی جناح کا خادم خاص رہا ہے،یہ جان کر قارئین کو خوشگوار حیرت ہوگی کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے خادم خاص عبیر ولی شاہ المعروف ہندوستانی لال کا تعلق چترال کے خوبصورت حسین وادی گرم چشمہ کے نواحی گاؤں بیشقر بالا سے تھا عبیر ولی شاہ 1892میں لٹکوہ کے ایک معزز گھرانے خیر اللہ خان لال کے گھرمیں پیدا ہوئے اس خاندان کو علاقہ میں عزت اور احترام کا مقام حاصل رہا ہے، گرم چشمہ  کا شمار لٹکوہ کے خوبصورت وادیوں میں شما ہوتا ہے بلندو بالا برف سے ڈھکی ہوئی پہاڑ،دودھ کی طرح سفید ندی نالے،میوہ جات کے باغات اور پیار کرنے والے مہمان نواز لوگوں کے لئے یہ وادی مشہور ہے۔
عبیر ولی شاہ  1930ہندوستان ممبی چلا گیا اور وہاں تحریک پاکستان کے نامور رہنما سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئیم کے ہاں ملازمت اختیار کر لی جہاں وہ آغا خان اور قائداعظم کے درمیان پیغام رسانی کے خدمات بھی انجام دیتے تھے،بعدازاں قائد اعظم کے خواہش پر انہوں نے قائداعظم کے ساتھ بطور خادم خاص کے حثیت سے خدمات انجام دی اور قائد اعظم کے وفات تک ان کے ساتھ رہے،قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح کا ان پر بہت اعتماد تھا،مسلم لیگ اور کانگریس کے لیڈروں کو انہوں نے کافی قریب سے دیکھا جو کہ قائد سے ملاقات کے لئے آتے تھے وہ قائد سے بہت متاثر تھے اور انکے اوصاف بیان کرتے ہوئے ابدیدہ ہو جاتے تھے،قائد کے وفات کے بعد وہ اپنے آبائی گاؤں واپس آگئے تھے انکے وفات سے کیچھ عرصہ پہلے پاکستان ٹیلی ویژن کے پروڈیوسر حبیب الرحمن اور راقم نے ان سے انٹرویو لیا۔انٹرویو میں انہوں نے اپنے زندگی کے ان دنوں کے بارے میں باتیں کئے جس دوران وہ قائداعظم کے ساتھ بطور خادم خاص زندگی گزار رہے تھے قائد کے حوالے سے ان کے تاثرات ایک انٹرویو کے صورت میں محفوظ ہو گئے انکا انٹرویو یوم پاکستان اور 14اگست کے موقع پر کئی دفعہ پاکستان ٹیلی ویژن سے ٹیلی کاسٹ ہوا۔عبیر ولی شاہ کے چار بیٹے ہیں، جن میں شیر علی خان سابق کونسلر مرزا جام خان،سابق کونسلر عبدالجہان خان اور عثمان علی خان شامل ہیں۔عثما ن علی خان کے گھر میں عبیر ولی شاہ کے زاتی استعمال کے سامان انکے شیروانی،بیڈ،تصویریں،جناح کیپ،ریڈیو،کتابیں اور اخبارات سلیقے سے سجا کر کررکھیں ہے ان کے بیٹے کے مطابق قائد نے انھیں اپنے زیر استعمال شیروانی اور جناح کیپ قراقلی ٹوپی تحفے کے طور پر دی تھی۔شعبہ تدریس سے وابسطہ استاد محمد قاسم جو عبیر ولی شاہ کے گاوں کے رہنے والے ہے بتاتے ہے کہ عبیر ولی شاہ وفات تک صحت مند تھے خوش لباس اور خوش مزاج تھے،صاف ستھرا لباس پہنتے تھے شیروانی اور قراقلی ٹوپی استعمال کرتے تھے اور سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے وہ 115 سال کی عمر میں 26اپریل 2007کو انتقال کر گئے جس باغ میں ان سے انٹر ویو لیا گیا تھا اس باغ کے ایک کونے میں ان کی تدفین کی گئی ہے۔ان کی وفات کی خبر پی ٹی وی سے بھی نشر ہوئی۔

20000126_05140220000126_062619