• Home »
  • مضامین »
  • صدا بصحرا ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ زلزلہ زدگان کی امداد

صدا بصحرا ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ زلزلہ زدگان کی امداد

صدا بصحرا
ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ
زلزلہ زدگان کی امداد
افغانستان پاکستان اور کشمیر میں 26 اکتوبر کے زلزلہ کے بعد بین لاقوامی اداروں اور قومی حکومتوں کی نیا امتحان شروع ہو ا ہے خیبر پختونخوا میں ابتدائی اندازوں کے مطابق 4 لاکھ مکانات مہندم ہوئے ہیں اکیلے چترال اور مانسہر ہ میں تباہ ہونے والے مکانا ت کی تعداد 80 ہزار سے زیادہ ہے ابتدائی طور پر 200 شہریوں کی شہادت اور 3 ہزار سے زیادہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں 1800 کلومیٹر سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا ہے سرکاری عمارتوں،سکولوں اور دیگر سہولیات کے نقصانات کا تخمینہ ابھی نہیں لگا یا گیا اموات اور زخمیوں کی تعداد انفراسٹرکچر کی بربادی کے مقابلے میں کم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ زلزلہ دن کے وقت آیا لوگ یاتو باہر تھے یا آسانی کے ساتھ اپنی جان بچا کر گھروں سے باہر نکل گئے اگر یہ زلزلہ رات کو آتا تو بڑی تباہی ہوتی ریکٹر سکیل پر زلزلہ کی شدت 8.1 بتائی گئی ہے اور اس کا مرکز مغربی ہندوکش میں ننگر ہا رافغانستان کے قریب بتایا گیا ہے 2015؁ء کا سال خیبر پختونخوا کے لئے اچھا سال ثابت نہیں ہوا جولائی 2015 ؁ء میں صوبے کے پہاڑی اضلاع چترال، دیر،شانگلہ،کوہستان وغیر ہ میں سیلاب آیا صرف ضلع چترال میں 37 افراد شہید ہوئے 70 ہزار ایکڑرقبے پر فصلوں اور باغوں کو نقصان پہنچا 10 ہزارلوگ بے گھر ہوگئے انفراسٹر کچر برباد ہوا بجلی گھر،سڑکیں،نہریں اور واٹر سپلائی سکیمیں برباد ہوگئیں مذہبی جماعتوں کی طرف سے لوگوں کو فوری امداد پہنچائی گئی آغاخان فاؤنڈیشن،الخدمت فاؤنڈیشن،جماعتہ الدعوۃ،فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور اقراء ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے رضا کاروں نے سیلاب زدہ لوگوں کی مدد کی وفاقی اور صوبائی حکومت کا کام نظر نہیں آیا وزیراعظم،وزیراعلیٰ او ردیگر حکام کی طرف سے ”گا،گے،گی کااعادہ کیا گیا منتخب عوامی نمائیندوں کیطرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی ایک دن کی تنخواہ اور ایک دن کا راشن متاثرین سیلاب کودیدیا 26 اکتوبر کے زلزلہ کی وجہ سے وفاق اور صوبے میں برسر اقتدار جماعتوں کا نیا امتحان شروع ہو گیا ہے 3 ماہ پہلے کے ناکام تجربے کے بعد اب مصیبت زدہ عوام ہوگا ”دینگے اور کردی جائیگی“ جیسی باتوں پر یقین نہیں کرینگے 26 اکتوبر کی شام کو زلزلہ کے متاثرین ہسپتالوں میں دربدر تھے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی فنڈ جاری کر نے کا اعلان کر کے مصیبت زدہ لوگوں کے تازہ زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا این ڈی ایم اے نے 2005 ؁ء کے زلزلہ زدگان کے لئے کچھ نہیں کیا 2010 ؁ء،2012؁ء اور 2015 ؁ء کے سیلاب زدگان کی بحالی میں بُری طرح ناکام ہوا عوامی حلقے این ڈی ایم اے کوتوڑ کر وسائل صوبائی حکومت اور ضلعی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں میں دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں وفاقی حکومت ایک بارسفید ہاتھی کو چارہ ڈال رہی ہے اب وقت آگیا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں این ڈی ایم اے کے خلاف قرار داد لائی جائے اور این ڈی ایم اے کو تحلیل کر کے تمام وسائل اور اختیارات صوبائی حکومتوں کے دینے کا فیصلہ کروایا جائے یہ وقت اختیارات اور وسائل ایک شخص کے ہاتھ میں دینے کا نہیں یہ وقت وسائل اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر کے عوام کو سہولت دینے کا ہے مانسہر ہ،چترال،سوات اور باجوڑ کے غریب لوگ اسلام آباد اورپشاور کی خاک چھان کر این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے دروازے پر دستک دینے،کسی بڑے جرنیل کی سفارش ڈھونڈنے اور این ڈی ایم اے حکام تک اپنی آواز پہنچانے کی ہمت،استعداد اور صلاحیت نہیں رکھتے خصوصاً مصیبت کے دروان کوئی مصیبت زدہ شخص این ڈے ایم اے تک رسائی کا سوچ بھی نہیں سکتا وہ زیادہ سے زیادہ قریبی ہسپتال،قریبی پولیس سٹیشن،ویلج کونسل کے دفتر یا نائب تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر تک اپنی آواز پہنچا سکتاہے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک جاسکتا ہے اس سے آگے نہیں جاسکتا این ڈی ایم اے تک رسائی کسی غریب شہری کے بس کی بات نہیں کوئی غریب شہری مصیبت کے موقع پر چترال اور مانسہر ہ سے چل کر اسلام اباد یا پشاور جاکر این ڈی ایم اے سے امداد اور بحالی کا مطالبہ نہیں کرسکتا یہ اُس کے بس کی بات نہیں نیز این ڈی ایم اے ایسا ادارہ ہے جو کسی کو جوابدہ نہیں مصیبت کے وقت فوری امداد اور بحالی کی ضرورت ہوتی ہے این ڈی ایم اے کے دفتر سے کوئی فائل،کوئی کاغذ 3 مہینوں میں واپس نہیں آتی سیلاپ زدہ گان اور زلزلہ زدگان کی امداد کا درست طریقہ وہ تھا جو این ڈی ایم اے بننے سے پہلے موجود تھا تمام وسائل ڈپٹی کمشنر کے پاس ہوتے تھے اس وقت الخدمت فاؤنڈیشن،اقراء ٹرسٹ،جماعتہ الدعوۃ،آغاخان فاؤنڈیشن وغیرہ کے پاس محدور وسائل اور رضا کار ہوتے ہیں وہ موقع پر مصیبت زدہ عوام کی مد د کر تے ہیں جولائی کے سیلاپ میں ناخوشگور صورتحال اُسوقت سامنے آئی تھی جب لوگ فوری امداد کے ا نتظار میں تھے الخدمت والے لنگر لگا کر کھا نا تقسیم کر تے تھے فوکس والے خیمے تقسیم کرتے تھے اقراء ٹرسٹ والے راشن اور نقد پیسوں کیساتھ تعمیراتی سامان تقسیم کرتے تھے این ڈی ایم اے کا ہیلی کاپٹر 7 لاکھ روپے کا تیل خرچ کر کے آیا تھا اور 6 ہزار روپے کے منرل واٹر لاتا تھا زلزلہ زدگان کی امداد کے نام پر ایسا کا م نہیں ہوناچاہیے اس وقت حکومت کو تین بڑے کام کرنے ہونگے زلزلہ زدہ اضلاع میں لوگوں کے تمام بینکوں کے سودی قرضے معاف کرنے چاہئیں زلزلہ کے متاثرین کوفوری طور پر نقد امداد فراہم کر کے ان کو اپنے مکانات کی از سر نو تعمیر کے قابل بنایا جائے تیسرا کام یہ ہے کہ زلزلہ سے متاثرہونے والے انفراسٹر کچر کی بحالی کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کا فنڈ این ڈی ایم اے یا پی ڈی ایم اے کو دینے کی جگہ مقامی حکومت،ویلج کونسل اور ضلعی انتظامیہ کی تحویل میں دید یا جائے جس کا کام اُسی کو ساجھے۔